ثقافتی و مذہبی کاروان ’زندگی‘ طرزِ زندگی سے متعلق گفتگو کو رسمی ہالوں سے نکال کر شہری میدانوں تک لے آیا ہے

دینی طرزِ زندگی کو معاشرے کے دل میں جگہ دینی ہوگی؛ کاروانِ ’زندگی‘ لوگوں کے درمیان پہنچ رہا ہے

ثقافتی و مذہبی کاروان ’زندگی‘ طرزِ زندگی سے متعلق گفتگو کو رسمی ہالوں سے نکال کر شہری میدانوں تک لے آیا ہے

دینی طرزِ زندگی کو معاشرے کے دل میں جگہ دینی ہوگی؛ کاروانِ ’زندگی‘ لوگوں کے درمیان پہنچ رہا ہے

طرزِ زندگی کے بارے میں کوئی لیکچر سننے کے لیے ضروری نہیں کہ سامع ہمیشہ کسی رسمی ہال میں جائے اور کسی تعلیمی پروگرام میں شرکت کرے۔ کبھی کوئی ثقافتی پروگرام خود شہری میدانوں تک پہنچ سکتا ہے؛ ایسی جگہ جہاں خاندان جمع ہوتے ہیں، تفریحی پروگرام دیکھتے ہیں اور ایک غیر رسمی ماحول میں مذہبی و سماجی موضوعات سے روبرو ہوتے ہیں۔

دینی طرزِ زندگی کو معاشرے کے دل میں جگہ دینی ہوگی؛ کاروانِ ’زندگی‘ لوگوں کے درمیان پہنچ رہا ہے

اسی سوچ کے تحت ایران میں ’قومی کاروانِ زندگی‘ کا آغاز کیا گیا ہے۔ اسے مؤسسه تبیان نے شروع کیا ہے، جو ایک ایرانی ثقافتی و میڈیا ادارہ ہے اور مذہبی، ثقافتی اور تعلیمی مواد کی تیاری اور اشاعت کے شعبے میں کام کرتا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ایران میں ’ایرانی ـ اسلامی طرزِ زندگی‘ کہلانے والے تصور کو فروغ دینا ہے۔ اس کے تحت قرآنی و روایتی مواد، تفریحی پروگرام، ماہرین کے خصوصی سیشن، مداحی اور موسیقی پیش کی جاتی ہے، جبکہ ہر شہر کی ثقافت اور ماحول کے مطابق مختلف پروگرام بھی شامل کیے جاتے ہیں۔

اس کاروان نے دسمبر 2025 میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ہالوں میں کئی پروگرام منعقد کرنے کے بعد اب یہ عوامی مقامات اور شہری میدانوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق مقصد یہ ہے کہ قرآن کے مفاہیم اور اہلِ بیت کی تعلیمات — یعنی پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے خاندان، جنہیں شیعہ عقیدے میں مرکزی مقام حاصل ہے — کو زیادہ غیر رسمی انداز میں، خوشی، گفتگو اور لوگوں سے براہِ راست رابطے کے ذریعے پیش کیا جائے۔

’قومی کاروانِ زندگی‘ اب تک ایران کے نو صوبوں میں 10 پروگراموں میں شرکت کر چکا ہے۔ اس کا تازہ ترین پروگرام زنجان کے انقلاب اسکوائر میں منعقد ہوا، جہاں کاروان کے ذمہ دار کے مطابق تقریباً 8 سے 9 ہزار افراد نے شرکت کی۔ اصفہان ان شہروں میں شامل ہے جہاں یہ پروگرام ایک سے زیادہ مرتبہ منعقد ہوا؛ وہاں اس کے دو پروگرام ہو چکے ہیں۔ بوشہر، کرمان، شمالی خراسان اور سمنان بھی اس کے دیگر مقامات میں شامل ہیں۔

اس پروگرام کے ابتدائی مخاطبین امام خمینی امدادی کمیٹی کے زیرِ امداد افراد تھے؛ یہ ایران کا ایک سرکاری ادارہ ہے جو کم آمدنی والے طبقات اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ پروگرام کے مخاطبین کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور کاروان ایک مخصوص ہدفی گروہ کے لیے منعقد ہونے والے پروگرام سے بڑھ کر شہری مقامات پر عام لوگوں کے لیے ایک پروگرام بن گیا۔

ایک تشویش سے ’کاروانِ زندگی‘ کی تشکیل تک
’کاروانِ زندگی‘ کے ذمہ دار مسعود خاتمی کہتے ہیں کہ اس پروگرام کا ابتدائی خیال امدادی کمیٹی کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ کمیٹی اپنے زیرِ امداد افراد کے لیے ایک ثقافتی پروگرام منعقد کرنا چاہتی تھی، لیکن اس نوعیت کے پروگرام کو عملی شکل دینے کے لیے کوئی ادارہ موجود نہیں تھا۔ بعد میں مؤسسه تبیان نے اس پروگرام کے انعقاد کی ذمہ داری قبول کرلی۔

خاتمی پروگرام کے مواد کے بارے میں کہتے ہیں: ’’قومی کاروانِ زندگی ایک ایرانی ـ اسلامی ثقافتی پروگرام ہے جس میں قرآن کی آیات اور اہلِ بیت کی روایات کو خوشی اور ہنسی کے انداز میں لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ پروگرام کی ساخت بھی اسی بنیاد پر تیار کی گئی ہے؛ ایک خوش مزاج اور پرجوش میزبان سے لے کر اساتذہ اور ماہرین کی شرکت تک، جن میں سے ہر ایک اپنے شعبۂ تخصص میں لوگوں سے رابطہ قائم کرتا ہے۔‘‘

خاتمی کے مطابق ابتدائی پروگراموں میں صبح کے وقت امدادی کمیٹی کے زیرِ امداد افراد کے لیے ہال میں پروگرام منعقد ہوتا تھا، جبکہ شام کو یہی پروگرام عام لوگوں کے لیے پیش کیا جاتا تھا۔ تاہم رفتہ رفتہ اس پروگرام کی بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے کی صلاحیت کو شہری اجتماعات اور میدانوں میں بھی استعمال کیا جانے لگا۔

ہال سے میدان تک
پروگرام کے مقام میں تبدیلی کا مطلب اس کے بنیادی مواد میں تبدیلی نہیں ہے۔ طرزِ زندگی اب بھی پروگرام کا مرکزی موضوع ہے اور قرآنی و روایتی مواد بھی برقرار ہے؛ فرق صرف یہ ہے کہ عوامی مقامات پر پروگرام پیش کرنے کے لیے ایسے حصے شامل کیے گئے ہیں جو اس ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں۔

خاتمی کہتے ہیں: ’’جو مواد ہمارے پاس ابتدا سے تھا، وہ اب بھی موجود ہے؛ یعنی قرآن کی آیات اور اہلِ بیت کی روایات کی روشنی میں طرزِ زندگی۔ اس کے ساتھ ساتھ، میدان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انقلابی ویڈیو کلپس، ’اللہ اکبر‘ کے نعرے اور اجتماعات کے ماحول سے مطابقت رکھنے والے دیگر پروگرام بھی شامل کیے گئے ہیں۔‘‘

اس تبدیلی کے نتیجے میں عوامی اور مذہبی گروہوں نے بھی اپنے شہروں میں پروگرام منعقد کرنے کے لیے کاروان کو دعوت دینا شروع کیا۔ اصفہان اس عمل کی ایک مثال ہے؛ وہاں شہر کی مذہبی ہیئتوں — مذہبی تقریبات اور مناسبتوں کے انعقاد کے لیے منظم عوامی گروہوں — نے براہِ راست کاروان کو دعوت دی۔

ہر شہر کی اپنی کہانی
اس پروگرام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ہر شہر کے ثقافتی عناصر کو پروگرام کی تیاری میں شامل کیا جاتا ہے۔ اسی لیے مختلف شہروں میں پروگرام لازماً ایک ہی طے شدہ انداز میں منعقد نہیں ہوتا۔

زنجان میں ہونے والے پروگرام کے بارے میں خاتمی بتاتے ہیں کہ مقامی منتظمین نے درخواست کی تھی کہ پروگرام میں سورۂ فتح کی مکمل تلاوت کی جائے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، جو 2026 کے اوائل میں شروع ہوئی، کے دوران ایرانی عوام کے ایک حصے کے لیے اس سورت کی تلاوت دشمن پر فتح کی امید کی علامت بن گئی۔ یہ تصور سورت کے نام ’فتح‘ یعنی کامیابی اور فتح سے بھی جڑا ہے اور اس کی ابتدائی آیات کے مضمون سے بھی۔ خاتمی کے مطابق ان دنوں زنجان کے لوگ ہر رات یہ سورت پڑھتے تھے، اس لیے کاروان کے منتظمین نے بھی اس روایت کو اپنے پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

قرآن کی تلاوت کے ساتھ زنجان کے پروگرام میں تفریحی پروگرام، مداحی، ویڈیو کلپس اور ماہرین کے خصوصی سیشن بھی شامل تھے۔ خاتمی کے مطابق قرآن کا ایک حصہ بھی خوش گوار انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ مداح، مذہبی امور کے ماہرین اور ماہرینِ نفسیات پروگرام میں شریک ہوتے ہیں۔ عموماً پروگرام کے اختتام پر ایک گلوکار بھی اسٹیج پر آتا ہے۔

جب طرزِ زندگی روزمرہ گفتگو کا حصہ بن جائے
’کاروانِ زندگی‘ کو ایک عام لیکچر یا تعلیمی پروگرام سے ممتاز کرنے والی بات یہ ہے کہ وہ مذہبی تصورات کو روزمرہ زندگی کے زیادہ قریب لانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس ماڈل میں مذہبی مواد کو تفریح، موسیقی اور گفتگو کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور سامعین ایک عوامی اور غیر رسمی ماحول میں اس سے روبرو ہوتے ہیں۔

خصوصی ہالوں سے شہری میدانوں کی جانب منتقلی نے پروگرام کے مخاطبین کا دائرہ بھی وسیع کیا ہے۔ یہ کاروان، جو ابتدا میں ایک مخصوص گروہ کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، اب مختلف شہروں میں خاندانوں اور عام لوگوں کو بھی مخاطب کرتا ہے۔

منتظمین کے نزدیک یہ تبدیلی صرف پروگرام کے مقام کی تبدیلی نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک کوشش ہے کہ ایرانی ـ اسلامی طرزِ زندگی کے بارے میں گفتگو کو رسمی پروگرام کے دائرے سے نکال کر لوگوں کے درمیان لایا جائے، ایسے ماحول میں جہاں خاندان اور معاشرے کے مختلف طبقات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
 

2026-09-07

دوروں کی تعداد: 52
ایران
آیکون توانخواهان

T

T