غزہ کی جنگ میں بچوں کے مصائب کی عکاسی کرتی ایرانی سینما
فلم ’’فرشتوں کی سرزمین‘‘ انطالیہ کے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے خصوصی پروگرام میں پیش کی جائے گی
حزب اللہ کے سابق سربراہ کی خاندانی زندگی کی ایک جھلک
حسن نصراللہ لبنان میں اپنے سیاسی و عسکری کردار اور اسرائیل کے ساتھ محاذ آرائی کے حوالے سے زیادہ معروف ہیں۔ تاہم، کتاب «میرے والد کی یادیں» ان کی زندگی کے ایک ایسے پہلو کو اجاگر کرتی ہے جس کا تعلق ان کے خاندانی رشتوں، مذہبی عقائد اور روزمرہ معمولات سے ہے۔ یہ تصویر ان کے بیٹے کی یادوں کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ کتاب محمد مہدی نصراللہ نے لکھی ہے اور اس کا فارسی ترجمہ بشریٰ صاحبی نے کیا ہے۔ اسے سید حسن نصراللہ کی شہادت کی برسی کے موقع پر امیر کبیر پبلشنگ ہاؤس نے شائع کیا۔
حسن نصراللہ لبنان میں اپنے سیاسی و عسکری کردار اور اسرائیل کے ساتھ محاذ آرائی کے حوالے سے زیادہ معروف ہیں۔ تاہم، کتاب «میرے والد کی یادیں» ان کی زندگی کے ایک ایسے پہلو کو اجاگر کرتی ہے جس کا تعلق ان کے خاندانی رشتوں، مذہبی عقائد اور روزمرہ معمولات سے ہے۔ یہ تصویر ان کے بیٹے کی یادوں کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ کتاب محمد مہدی نصراللہ نے لکھی ہے اور اس کا فارسی ترجمہ بشریٰ صاحبی نے کیا ہے۔ اسے سید حسن نصراللہ کی شہادت کی برسی کے موقع پر امیر کبیر پبلشنگ ہاؤس نے شائع کیا۔
سید حسن نصراللہ لبنان کے شیعہ عالمِ دین تھے۔ وہ 1992 سے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل رہے اور 27 ستمبر 2024 کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں شہادت تک اس عہدے پر فائز رہے۔ حزب اللہ ایک لبنانی تنظیم ہے جس کے سیاسی اور عسکری شعبے ہیں اور اسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ یہ تنظیم لبنان کی سیاست اور اسرائیل کے ساتھ محاذ آرائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
حسن نصراللہ کی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بجائے، کتاب «میرے والد کی یادیں» میں ان کی خاندانی زندگی سے متعلق یادوں اور مشاہدات کو یکجا کیا گیا ہے۔ بچوں کی تربیت، سادہ طرزِ زندگی، مطالعہ، عبادت اور سخت سکیورٹی حالات میں زندگی گزارنا اس کتاب کے اہم موضوعات ہیں۔
ناشر کے تعارف کے مطابق، کتاب میں 82 مختصر واقعات شامل ہیں، جنہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: «جو میں نے سنا» اور «جو میں نے دیکھا»۔ ان میں سے ایک واقعہ حسن نصراللہ اور ان کے بیٹے کے درمیان اللہ کے ذکر کے مختلف درجات پر ہونے والی گفتگو سے متعلق ہے۔
محمد مہدی نصراللہ لکھتے ہیں کہ اپنی آخری ملاقاتوں میں سے ایک کے دوران ان کے والد نے انہیں سمجھایا: «اللہ کا ذکر صرف چند مخصوص الفاظ زبان سے ادا کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے گہرے درجات بھی ہیں، جن میں دل سے اللہ کو یاد کرنا بھی شامل ہے۔»
اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے حسن نصراللہ مثال دیتے ہیں کہ انسان کام کرتے ہوئے یا دوسروں کے درمیان موجود ہونے کے باوجود دل میں اللہ کو یاد کر سکتا ہے۔ وہ ذہن ہی میں کسی مخصوص ذکر کو دہرا سکتا ہے یا اللہ کی نشانیوں اور صفات پر غور کر سکتا ہے، اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ الفاظ بلند آواز سے ادا کرے۔ ان کے بیٹے کے بیان کے مطابق، حسن نصراللہ پھر مسکراتے ہوئے، قدرے مزاحیہ انداز میں کہتے ہیں کہ گھر میں اپنی اہلیہ کی موجودگی میں انسان کو یہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ کہیں اس کے ذکر کو دکھاوے کی عبادت نہ سمجھ لیا جائے۔ وہ ہاتھ میں تسبیح لے کر اطمینان سے ذکر کر سکتا ہے۔
یہ یادداشت کتاب کے اس پہلو کو نمایاں کرتی ہے جس میں حسن نصراللہ کی نجی زندگی ان کے بیٹے کی نظر سے سامنے آتی ہے۔ اس طرح قارئین کو ان کی سیاسی شخصیت کے ساتھ ساتھ ان کے بعض عقائد، عادات اور روزمرہ زندگی کے لمحات سے بھی آگاہی ملتی ہے۔
2026-09-25
T
T