ایرانی دستاویزی فلم کے ہدایت کار فلسطین کے حامیوں پر فلم بنانے کے اپنے تجربے کے بارے میں بتاتے ہیں
«مغرب سے طلوع»؛ غزہ کی جنگ کے بعد فلسطین کے لیے یورپی حمایت کی کہانی
غزہ کی جنگ میں بچوں کے مصائب کی عکاسی کرتی ایرانی سینما
ایرانی فیچر فلم ’’فرشتوں کی سرزمین‘‘ کے مصنف اور ہدایت کار بابک خواجہ پاشا ہیں، جبکہ اس کے پروڈیوسر منوچہر محمدی ہیں۔ یہ فلم ترکی کے شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والے 63ویں بین الاقوامی فلم فیسٹیول ’’گولڈن اورنج‘‘ کے خصوصی پروگرام میں پیش کی جائے گی۔ غزہ کی جنگ میں بچوں کی زندگیوں پر مبنی یہ فلم فیسٹیول کے بین الاقوامی پروگرام کا حصہ ہے۔ فیسٹیول 24 سے 31 اکتوبر 2026 تک منعقد ہوگا۔
ایرانی فیچر فلم ’’فرشتوں کی سرزمین‘‘ کے مصنف اور ہدایت کار بابک خواجہ پاشا ہیں، جبکہ اس کے پروڈیوسر منوچہر محمدی ہیں۔ یہ فلم ترکی کے شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والے 63ویں بین الاقوامی فلم فیسٹیول ’’گولڈن اورنج‘‘ کے خصوصی پروگرام میں پیش کی جائے گی۔ غزہ کی جنگ میں بچوں کی زندگیوں پر مبنی یہ فلم فیسٹیول کے بین الاقوامی پروگرام کا حصہ ہے۔ فیسٹیول 24 سے 31 اکتوبر 2026 تک منعقد ہوگا۔
بچوں کو بچانے کی کوشش کرنے والی ایک عورت کی کہانی
’’فرشتوں کی سرزمین‘‘ میں غزہ کی جنگ کو ان بچوں کے تجربات کے ذریعے پیش کیا گیا ہے جو حملوں کے دوران اپنے خاندانوں اور تحفظ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ کہانی کا مرکزی کردار ضحیٰ نامی ایک فلسطینی خاتون ہے، جو پہلے ہی اپنے شوہر اور دو بیٹیوں کو کھو چکی ہے۔ ایک اور حملے کے بعد اس کی ملاقات اپنے پڑوسیوں کی بیٹی نور سے ہوتی ہے، جس نے اپنے والدین کو کھو دیا ہے۔ ضحیٰ نور کو بچانے اور اس کے لیے پناہ گاہ تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جب مزید بچے تنہا رہ جاتے ہیں تو وہ ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔
فلم میں بچوں کو ایسے حالات میں تحفظ دینے کی جدوجہد مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جب جنگ روزمرہ زندگی کو تباہ کر دیتی ہے۔ ضحیٰ اور بچوں کے تعلق کے ذریعے فلم محرومی، خوف اور زندگی بچانے کی کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔
اس فلم میں شامی اداکارہ سلاف فواخرجی نے کردار ادا کیا ہے، جبکہ ایران، شام اور لبنان کے کم عمر اداکار بھی اس میں شامل ہیں۔
ترکی کے قدیم فلمی میلوں میں شمار ہونے والا فیسٹیول
انطالیہ کا بین الاقوامی فلم فیسٹیول ’’گولڈن اورنج‘‘ 1964 میں شروع ہوا اور ترکی کے قدیم فلمی میلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں ترک فلموں کے ساتھ غیر ملکی فلمیں اور بین الاقوامی پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں۔
’’جڑیں، روشنی اور کیمرا‘‘: جنگ اور قبضے کے سائے میں سینما
’’فرشتوں کی سرزمین‘‘ کو خصوصی پروگرام ’’جڑیں، روشنی اور کیمرا‘‘ میں پیش کیا جائے گا۔ یہ پروگرام ایسے فلم سازوں کے لیے مختص ہے جو جنگ اور قبضے کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فیسٹیول کے سرکاری تعارف کے مطابق، اس پروگرام میں ایران، لبنان، یوکرین اور فلسطین کی فلمیں شامل ہیں اور اس کا محور جنگ اور قبضے کے حالات میں فلم سازی ہے۔
منتظمین کے اعلان کے مطابق، ’’فرشتوں کی سرزمین‘‘ اس پروگرام کا حصہ ہوگی اور انطالیہ میں اس کی نمائش ترکی میں فلم کی پہلی نمائش ہوگی۔
2026-10-17
T
T